Abolish blasphemy law or review GSP Plus, European Parliament

 

“توہین مذہب کا قانون ختم کرو ورنہ جی ایس پی پلس پر نظرثانی “، یورپی پارلیمنٹ
آج کا اخباراہم خبریں30 اپریل ، 2021
یورپی پارلیمنٹ 6؍ کے مقابلے میں 681؍ ووٹوں سے پاکستان کے توہین (بلاسفیمی) کے قوانین کیخلاف اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ایک قرارداد منظور کی گئی ہے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس کی حیثیت پر نظرثانی کی جائے۔
پارلیمنٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اقلیتوں، حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں، مذہبی رواداری اور برداشت کیلئے کام کرنے والی تنظیموں اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی کرے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔ یورپی پارلیمنٹ نے وزیر مملکت علی خان کے بیان کی سخت مذمت کی ہے۔
قرارداد میں یورپی کمیشن اور یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر یہ طے کرنے کی کوشش کریں کہ آیا عارضی طور پر پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس معطل کیا جا سکتا ہے یا نہیں، اس معاملے پر جلد از جلد یورپی پارلیمنٹ کو مطلع کیا جائے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ شفقت ایمانوئیل اور شگفتہ کوثر کو فوری طور پر رہا کیا جائے، انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جائے اور ساتھ ہی ان کی سزائے موت کو غیر مشروط طور پر ختم کیا جائے۔ قرارداد میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ شگفتہ اور شفقت کی اپیل کو ملتوی کیا جا رہا ہے، لاہور ہائی کورٹ جلد از جلد فیصلہ سنائے اور ساتھ ہی اتنی طوالت کے حوالے سے وضاحت بھی جاری کی جائے۔ شفقت ایمانوئیل کو جیل کی اسپتال میں رکھا جا رہا ہے، ان کی طبعیت انتہائی ناساز ہے، دو مرتبہ انہین فیصل آباد کی جیل کے باہر علاج کیلئے لیجایا گیا تھا، دونوں کو گزشتہ سات سال سے جیل میں ایک دوسرے سے علیحدہ رکھا گیا ہے اور اہل خانہ سے بھی ملنے نہیں دیا جا رہا، لہٰذا حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ اپنے قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھے اور انہیں بہتر حالات میں رکھے۔ یورپی پارلیمنٹ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں توہین کے قوانین کی وجہ سے مذہبی عدم برداشت، تشدد اور امتیازی سلوک کا ماحول تیزی سے پھیل رہا ہے۔
قرارداد میں پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ اس کے توہین مذہب کے حوالے سے قوانین حقوق انسانی کے عالمی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ انہیں اقلیتی گروپس کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے؛ لہٰذا حکومت پاکستان ایسے قوانین پر نظرثانی کرے اور انہیں ختم کیا جائے۔ اس ضمن میں آئین کے آرٹیکل 295B اور C کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ سوچ، ضمیر، مذہب اور اظہار کی آزادی کو ملک بھر میں یقینی بنایا جا سکے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کو پاکستان میں اکثر جھوٹے مقدمات بنانے اور الزامات عائد کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ذاتی مفادات حاصل کیے جا سکیں جن میں معاشی فوائد کا حصول، آپسی جھگڑا نمٹانا وغیرہ شامل ہے، حکومت پاکستان اس صورتحال کو دیکھے اور توہین کے قوانین ختم کرے۔ یورپی پارلیمنٹ نے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امُور علی خان کے اس بیان کی سخت مذمت ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ توہین میں ملوث افراد کا سر قلم کر دیا جائے۔ یورپی پارلیمنٹ نے اپنے سفارتی عہدیداروں سے کہا ہے کہ وہ شگفتہ کوثر اور شفقت ایمانوئیل کی مدد اور تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کریں، ان کے ٹرائلز میں شرکت کریں، جیل کا دورہ کریں اور کیس سے جڑے افراد اور عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں۔ یورپی پارلیمنٹ نے اس ضمن میں ضروری ویزے جاری کرنے اور دونوں افراد کے وکیل سیف الملوک اور دیگر کی حفاظت کیلئے اقدامات کرنے کیلئے بھی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اگر انہیں پاکستان چھوڑنا پڑے تو وہ با آسانی نکل سکیں۔ یورپی پارلیمنٹ نے صحافیوں، خواتین، سول سوسائٹی کی تنظیموں، ماہرین تعلیم اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں، حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں اور مذہبی رواداری اور برداشت کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے افراد کی حفاظت کیلئے اقدامات کیے جائیں۔

“Abolish blasphemy law or review GSP Plus”, European Parliament
Today’s Newspaper Top News April 30, 2021
A resolution against Pakistan’s blasphemy laws and violations of basic human rights was passed by 681 votes to 6 in the European Parliament, as well as a demand for GSP Plus status for Pakistan. To be reviewed.
Parliament has demanded that the government of Pakistan take immediate action against those involved in attacks on minorities, human rights activists, religious tolerance and tolerance organizations and journalists, and bring the perpetrators to justice. To be brought to justice. The European Parliament has strongly condemned the statement of Minister of State Ali Khan.
The resolution calls on the European Commission and the European External Action Service to review the current situation and try to determine whether Pakistan’s GSP Plus status can be temporarily suspended. But the European Parliament should be informed as soon as possible.
The resolution called for the immediate release of Shafqat Emmanuel and Shagufta Kausar, the provision of immediate medical assistance and the unconditional abolition of their death sentences. The resolution regrets that the appeal of Shagufta and Shafqat is being postponed, the Lahore High Court should give its verdict as soon as possible and at the same time an explanation should be issued regarding such length. Shafqat Emmanuel is being kept in the jail hospital, his condition is very bad, he was taken twice outside the jail in Faisalabad for treatment, the two have been kept separate from each other in the jail for the last seven years and Family members are also not being allowed to visit, so the government of Pakistan is appealed to treat its prisoners humanely and keep them in better conditions. The European Parliament has expressed concern that blasphemy laws in Pakistan are creating a climate of religious intolerance, violence and discrimination.
The resolution urges Pakistan that its blasphemy laws are inconsistent with international human rights law as they are used to target minority groups. Therefore, the government of Pakistan should review such laws and abolish them. In this regard, it has been demanded to repeal Articles 295B and C of the Constitution to ensure freedom of thought, conscience, religion and expression across the country. The resolution said that blasphemy laws are often used in Pakistan to fabricate cases and make accusations in order to achieve personal interests, including economic gain, resolving disputes, etc. Look at the situation and end the blasphemy laws. The European Parliament has strongly condemned the statement of Minister of State for Parliamentary Affairs Amur Ali Khan in which he said that those involved in blasphemy should be beheaded. The European Parliament has asked its diplomats to do everything possible to help and protect Shagufta Kausar and Shafqat Emmanuel, attend their trials, visit prisons and meet with people and officials involved in the case. The European Parliament has also stressed the need to issue the necessary visas and take steps to protect the lawyers of the two men, Saif al-Muluk and others, so that they can leave Pakistan easily if they have to. The European Parliament has expressed grave concern over attacks on journalists, women, civil society organizations, academics and minorities and called on journalists, human rights activists and organizations working for religious tolerance and tolerance to Take steps to protect people.